Breaking News

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی کی زیر صدارت اجلاس – آر او پلانٹس کی صورتحال پر تشویش

 

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی کی زیر صدارت اجلاس – آر او پلانٹس کی صورتحال پر تشویش 



وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی کی زیر صدارت اجلاس – آر او پلانٹس کی صورتحال پر تشویش

 

کراچی ویب ڈسک: وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محمد سلیم 

بلوچ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں صاف پانی کی فراہمی کے 

معاملات زیر غور آئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری محمد بخش جروار، پراجیکٹ ڈائریکٹر (پی 

ایم یو) محمد صبغت اللہ بھٹو، اور چیف انجینئر (ڈویلپمنٹ) شہید بینظیر آباد شفیق میمن سمیت دیگر 

اعلیٰ افسران شریک تھے۔

 

عمرکوٹ اور تھرپارکر کے عوام کو پانی کی فراہمی پر غور :

 

اجلاس کے دوران محمد سلیم بلوچ نے عمرکوٹ اور تھرپارکر میں آر او پلانٹس کی موجودہ 

صورتحال پر تفصیلات طلب کیں۔ انہیں حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں 

علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق امور پر روشنی ڈالی گئی۔

 

محمد سلیم بلوچ نے واضح کیا کہ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں کسی 

بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس اور دی گئی 

سرکاری تفصیلات میں نمایاں تضاد پایا گیا ہے، جو تشویشناک ہے۔

 

غیر فعال آر او پلانٹس پر سخت ایکشن کا عندیہ :

 

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمرکوٹ اور 

تھرپارکر کے کئی آر او پلانٹس غیر فعال ہیں، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں 

نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ذاتی طور پر ان علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا، تاکہ 

صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

 

محمد سلیم بلوچ نے خبردار کیا کہ جو افسران عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھ رہے ہیں، ان 

کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام آر او پلانٹس 

کو فوری طور پر فعال بنایا جائے اور عوام کو بلا تعطل صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

 

حکومت سندھ کا عزم – عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح

 

اجلاس کے اختتام پر محمد سلیم بلوچ نے کہا کہ حکومت سندھ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر 

کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی 

جائیں گی۔

 

یہ اجلاس سندھ کے دور دراز علاقوں میں پانی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم پیش 

رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کی نظریں اب حکومت کے عملی اقدامات پر مرکوز ہیں۔


No comments