بقائی میڈیکل یونیورسٹی کا کانووکیشن 2024 – ایک یادگار تقریب
بقائی
میڈیکل یونیورسٹی کا کانووکیشن 2024 – ایک یادگار تقریب
کراچی: بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن 2024 کی پروقار تقریب کراچی کے ایک
مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے
بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
فارغ
التحصیل طلبہ کے لیے ایک بڑا دن:
اس موقع پر بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی نے صوبائی
وزیر کا استقبال کیا اور کانووکیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں والدین، اساتذہ اور فارغ
التحصیل طلبہ کی بڑی تعداد شریک تھی، جو اپنے خوابوں کی
تکمیل پر خوشی سے نہال نظر آئے۔
ہزاروں
طلبہ کو ڈگریاں عطا:
اس کانووکیشن میں 2018 سے 2024 کے دوران اپنی ڈگریاں مکمل کرنے والے طلبہ کو
اسناد سے نوازا گیا، جن کی مجموعی تعداد 7672 تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فارغ التحصیل طلبہ
کو مستقبل میں کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
میڈیکل
کے شعبے میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار:
اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہنے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان
میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیکل کے شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھ رہی ہے، مگر
عملی میدان میں وہ کم تعداد میں آ رہی ہیں، جو کہ ایک چیلنج ہے۔
خواتین ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔ ان کی صلاحیتوں سے معاشرہ بھرپور
فائدہ
اٹھا سکتا ہے۔– سردار علی شاہ
محنتی
طلبہ کے لیے حکومتی تعاون:
وزیر تعلیم نے بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے لیے مزید اسکالرشپفراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ
سندھ حکومت قابل اور ضرورت مند طلبہ کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے گی۔ انہوں نے
اساتذہ اور والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں
تھیں۔
خدمتِ
انسانیت ہی اصل کامیابی:
وزیر تعلیم نے ڈاکٹرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیشے میں ہمدردی کو اولین ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا،مریض کے لیے احساس اور خدمت کا جذبہ ہی اصل طب ہے۔ ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہے جو اپنے مریض کی تکلیف کو محسوس کرے اور اسے بہترین علاج فراہم کرے۔
کانووکیشن کی یہ یادگار تقریب خوشیوں، فخر اور حوصلہ افزائی کے لمحات کے ساتھ اختتام پذیر
ہوئی، جہاں ہر چہرے پر ایک نئی امید اور عزم جھلک رہا تھا۔
No comments